ziyarat Makkah Ur Madina ka safar

ziyarat Makkah Ur Madina ka safar

زیارات مکه مکرمه

مولد رسول مولدالنبی کا معنی ہے رسول اللہ ﷺ کی جائے پیدائش۔ یہ تاریخی مکان سوق اللیل مروہ سے باہر نکل کر با بالکل سامنے بلڈنگ میں خانہ کعبہ کے قریب واقع ہے۔ اب یہاں ایک لائبری ہے

مولد رسول

جبل النور يا غار حرا جبل النور کا پرانا نام جبل حرا ہے۔ یہ مشہور پہاڑ خانہ کعبہ سے تقریبا پانچ کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس پہاڑ کی ایک چوٹی کے قریب شہرہ آفاق غار غار حرا“ ہے۔ جس میں آنحضور ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔

جبل الرحمة یہ مشہور پہاڑ میدان عرفات میں مسجد نمرہ کے پہلو میں واقع ہے۔ یہی وہ پہاڑ ہے جہاں رسالت مآب ﷺ نے اپنا وہ آخری تاریخ ساز خطبہ ارشاد فرمایا۔ جسے انسانیت کا بہترین منشور مانا جاتا ہے۔

غار حرا
جبل الرحمه

جبل الثور / غار ثور جبل ثور خانہ کعبہ سے تقریباً 6 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس سنگلاخ پہاڑ کی مشہور غار ثور میں آنحضور ﷺ ہجرت کے دوران حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ متواتر تین رات تک اس میں رہے اسی لئے حضرت ابو بکر صدیق کو یار غار کے لقب سے بھی نوازا گیا۔ مسجد عائشہ حرم کی حدود سے باہر تقریباً آٹھ کلومیٹر دور مدینہ روڈ پر عظیم شان مسجد واقع ہے۔ یہ مسجد حاجیوں اور اہل مکہ کی عمرہ کی ادائیگی کے لیے میقات ہے۔

مسجد عائشه (مسجد تعلیم)

بنت المعلی مکہ مکرمہ کاعظیم قبرستان جو جنت المعلی کے نام سے مشہور

ہے۔ اس میں تاریخ اسلام کی متعدد نامور ہستیاں مدفون ہیں۔

مسجد جن یہ تاریخی مسجد جنت المعلی کے قبرستان کے قریب واقع ہے۔

اسے دو اور ناموں ( مسجد بیت اور مسجد حرس ) سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں جنوں کی ایک جماعت نے حضرت محمد مصطفی اللہ کو تلاوت قرآن پاک کرتے ہوئے سنا اور اسلام قبول کر لیا۔

مسجد جن

بیت الخد یجہ حضرت خد یجہ کا مکان جو شارع فاطمتہ الزہرا پر واقع ہے۔ مدینہ ہجرت کر جانے سے پہلے تک جانے حضور ﷺ اسی تاریخی مکان میں مقیم رہے۔

ابو بکر صدیق اس تاریخی مکان میں حضرت طلحہ اور رت طلحہ اور حضرت زبیرایمان لائے تھے۔

مسجد نمرہ یہ میدان عرفات میں واقع ہے۔ حج کے دوسرے روز یعنی 9 ذی الحجہ کو ظہر اور عصر کی نمازیں ملا کر اسی تاریخی مسجد میں ادا کی جاتی ہیں۔

مسجد ذی طوئی عمرہ ادا کرنے کے بعد رسالت مآب ﷺ یہاں قیام فرمایا

مدینہ منورہ کا سفر

جس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب دو جہاں کے سردار کی قیام گاہ تجویز کیا ہو اس کیلئے اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہوگی کہ اللہ پاک نے اپنے محبوب کے رہنے کے لیے اس کو پسند کیا ہو .اور اس کے بعد پھر کسی دوسرے شہر کو اس پر فوقیت کیا ہو سکتی ہے۔ قاضی عیاض ” فرماتے ہیں .وہ جگہ جو وحی کے نزول کے ساتھ آباد ہوئی ہو، قرآن پاک اس میں نازل ہوتا رہا ہو، حضرت جبرائیل ، حضرت میکائیل بار بار اس جگہ حاضر ہوتے رہے ہوں ، مقرب فرشتے اترتے رہے ہوں۔ انکے میدان اللہ تعالیٰ کے پاک ذکر و تسبیحات سے گونجتے رہے ہوں .

اس زمین کی مٹی نے حضوری یا اے کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا ہو، وہاں حضور اقدس ﷺ کے کھڑے ہونے کے اور چلنے پھرنے کے مقامات ہوں .اس قابل ہے کہ اسکی تعظیم کی جائے. اس کی خوشبوؤں کو سونگھا جائے . اسکے درودیوار کو چوما جائے ۔ ابن عمر فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔آپ ﷺ نے فرمایا جو میری زیارت کو آئے اور اس کے سوا اور

کوئی نیت نہ ہو تو مجھ پر حق ہو گیا کہ میں روز محشر اس کی سفارش کروں۔ دنیا میں کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جس کو محشر کے ہولناک منظر میں حضور ﷺ

روضہ رسول

کی شفاعت کی ضرورت نہ ہو؟ کتنا خوش بخت ہے وہ شخص جس کے لئے حضور فرمائیں کہ اس کی شفاعت میرے ذمہ ہے۔

ابن عمرؓ سے راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی تو وہ ایسا ہے کہ جیسے میری زندگی میں میری زیارت کی. (رواہ الطبراني، دار القطني، دالبيهقي، في المشكوة) حضور ﷺ نے فرمایا جس شخص نے حج کیا اور میری زیارت

کے لئے مدینہ منورہ نہ آیا تو اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ ( روایت ابن عدی ) ہی حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے. تو مکہ مکرمہ کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا اور مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ میں میرا گھر ہے اور اس میں میری قبر ہوگی اور ہر مسلمان پر اس کا حق ہےکہ اس کی زیارت کرے۔ (ابوداؤد )

ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ جائے پھر میرا قصد کر کے میری مسجد میں آئے اس کےلئے دو حج مقبول کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ ( الانجاف)

محمد بن عبد الله بن عمر والعتمی کہتے ہیں کہ میں مدینہ طیبہ حاضر

ہوا اور قبر اطہر کی زیارت کی درود سلام پیش کر کے وہاں ہی الگ ایک جگہ بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار بدوانہ صورت حاضر ہوا اور آکر عرض کی یا خیر الرسل ! اے رسولوں کی بہترین ذات ! اللہ جل شانہ نے آپ ﷺ پر قرآن پاک میں نازل فرمایا:۔

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا نُفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُ واللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا

ترجمہ: اور اگر یہ لوگ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کر لیا تھا آپ ﷺ کے پاس آجاتے اور آکر اللہ جل شانہ سے معافی مانگتے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لئے معافی مانگتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو تو بہ قبول کرنے والا پاتے۔ اے اللہ کے رسول ﷺ میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں

اور اللہ جل شانہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور اس میں آپ ﷺ کی شفاعت کا طالب ہوں۔ اس کے بعد وہ بدو رونے لگا اور یہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے۔ اے بہترین ذات ان سب لوگوں میں جن کی ہڈیاں ہموار زمین میں دفن کی گئیں کہ ان کی وجہ سے زمین اور ٹیلوں میں عمدگی پھیل گئی۔ میری جان قربان اس قبر پر جس میں آپ سے مقیم ہیں کہ اس میں عفت ہے، اس میں جو د ہے، اس میں کرم ہے، اس

الله کے بعد انہوں نے استغفار کیا اور چلے گئے ۔ میری آنکھ لگ گئی تو میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔آمین فرمایا اس بدو کو بتا کہ میریسفارش سے اللہ جل شانہ نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔

مدینہ منورہ کے سفر کیلئے آپ کی روانگی کا وقت آپ کا معلم آپ کو بتائے گا۔ اگر آپ حج کے بعد مدینہ منورہ جا رہے ہیں تو پھر مکہ مکرمہ سے اپنا سارا سامان لے کر چلیں ۔ اس لئے کہ واپسی میں آپ کو سیدھا مدینہ منورہ ایئر پورٹ یا جدہ ایئر پورٹ پہنچایا جائے گا. اور اگر حج کے ایام سے پہلے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جارہے ہیں تو پھر سارا سامان اپنے

ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں۔

مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا فاصلہ تقریباً 450 کلو میٹر ہے اور یہ فاصلہ طے کرنے میں کم و بیش سات آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔ راستے بھر یہ تصور کریں کہ سلطان دو عالم ﷺ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ دھیان اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رکھیں ۔ سلام اور درود پاک کا اللهور دراستہ بھر کرتے جائیں۔

نوٹ جب بھی مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آرہے ہوں تو حالت احرام میں داخل ہونا واجب ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *