What is the status of Hajj in Islam?

What is the status of Hajj in Islam?

حج کی تعریف

حج کی تعریف حج کا لغوی معنی ہے کسی عظیم الشان چیز کی طرف قصد و ارادہ کرنا جبکہ شریعت کی اصطلاح میں مخصوص زمانے میں مخصوص افعال فرض، واجبات ، طواف سعی ، وقوف عرفات اور دیگر مخصوص مقامات کی

زیارت کرنے کو حج کہا جاتا ہے

حج کی فرضیت

۔ حج کی فرضیت حج تندرست، صاحب استطاعت، بالغ، عاقل، بقائم ہوش و حواس مسلمان مرد و عورت پر اس کی زندگی میں ایک مرتبہ کرنا فرض

ہے۔ صاحب استطاعت سے مراد ایسے مسلمان مرد و خواتین جن پر زکوۃ فرض ہو ان کی مالی حیثیت اتنی مضبوط ہو کہ وہ آسانی سے سفر حج اور اس کے لوازمات یعنی مناسک حج کو ان کی شرائط کے ساتھ پورا کر سکتے ہوں۔

حج کا حکم

حج کا حکم حضور ﷺ نے دین اسلام کو ایک محل سے تشبیہ دی ہے، جسکے پانچ ستون ہیں۔ ان میں سے پانچواں ستون حج کو قرار دیا ہے۔ حج عظیم ترین عبادت اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا شعار ہے۔ احادیث کے مطابق تمام انبیاء کرام نے حج کیا ہے۔ قرآن مجید میں صاحب استطاعت لوگوں پر حج فرض ہونے کا ذکر موجود ہے۔ حج کرنے سے فریضہ کی ادائیگی اور ثواب ملتا ہے اسکے ترک کرنے پر گناہ ہوگا حضور ﷺ نے فرمایا و وصی استطاعت

رکھتا ہو اور پھر حج نہ کرے تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر مرے .

حج کی شرعی حیثیت

حج کی شرعی حیثیت حضرات فقہائے کرام کی آراء کے مطابق زندگی بھر میں صاحب استطاعت پر ایک مرتبہ بیت اللہ شریف کا حج کرنا فرض ہے۔ تمام امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ نماز ، روزہ ، کی طرح حج بھی

اسلام کا ایک رکن ہے اور فرض عین ہے۔

حج کا وقت

حج کا وقت حج کا وقت مقررہ مہینے اور ایام ہیں۔

عورت کے لئے محرم یا شوہر کے ساتھ ہونے کی شرط یہ ممانعت

جوان اور بوڑھی ہر عورت کیلئے ہے بعض عورتوں کا خیال ہوتا ہے .کہ چند عورتوں کے ساتھ بغیر محرم کے عورت سفر میں چلی جائے تو یہ جائز ہے۔.آپ ﷺ نے بغیر کسی خصوصیت کے ہر عورت ان کا یہ خیال غلط ہے. آ کے حق میں تاکیدی طور پر ممانعت فرمائی ہے۔ حج یا عمرہ کا سفر بھی بغیر شوہر یا محرم کے سخت ممنوع اور گناہ ہے۔ محرم یا شوہر کے بغیر حج پر چلی جانیوالی عورتیں اپناحج یا عمرہ خراب کرتی ہیں۔ شریعت میں محرم اس شخص کو کہا جاتا ہے. جس سے نکاح کبھی بھی درست نہ ہو۔ ( جیسے باپ، بیٹا ہوتا نواسا، داماد ، سر حقیقی چچا حقیقی ماموں بھانجا، بھتیجا)۔مسئلہ خوامخواہ کسی کو منہ بولا باپ، بھائی یا بیٹا بنا کر بعض عورتیں سفر شروع

کر دیتی ہیں یہ غلط ہے . مسئلہ عورت کے پاس اتنی مالیت ہو کہ مکہ معظمہ تک اپنے خرچے سے آجا سکتی ہو اور محرم اور شوہر بھی ساتھ جانے کو تیار ہو تو اس پر حج کرنا فرض ہے .اگر بغیر شرعی محرم یعنی فرضی محرم کے ساتھ جائے گی تو گنہگار ہوگی۔

احرام

احرام کا لغوی معنی ہے حرام کرنا یعنی جس وقت کوئی شخص حج یا عمرہ کا احرام باندھ کر تلبیہ پکار لیتا ہے. تو چند مباح چیزیں بھی حرام ہو جاتی ہیں. جیسے احرام ، حج اور عمرہ کے درست ہونے کیلئے شرط ہے. جیسے نماز کے درست ہونے کیلئے تکبیر تحریمہ شرط ہے۔

شریعت میں احرام کی تعریف یہ ہے .کہ جو چیزیں احرام سے پہلے حلال و مباح تھیں نیت اور تلبیہ کے ساتھ احرام باندھ لینے سے ان چیزوں کو اپنے اوپر لازمی طور پر حرام قرار دے لے. مجاز آن دوسکی چادروں کو بھی احرام کہا جاتا ہے۔ جن کو حاجی احرام کی حالت میں استعمال کرتا ہے

جب کوئی شخص مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہو تو اس پر لازم ہے. کہ راستہ میں جو بھی میقات پڑھے اس پر اس سے پہلے یا عمرہ کا احرام

باب کعبه

باندھے۔ حج کے تو خاص دن مقرر ہیں ۔ البتہ عمرہ سال بھر میں جب چاہے کر سکتا ہے لیکن حج کے پانچ دنوں یعنی 12,11,109 اور 13 ذوالحجہ کو عمرہ کرنا مکروہ ہے۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *