Problems of prayer in Haram Sharif Mini, Arafat and Muzdalifah

Problems of prayer in Haram Sharif Mini, Arafat and Muzdalifah

حرم شریف منی ، عرفات اور مزدلفہ میں نماز کے مسائل

بیت اللہ شریف یعنی خانہ کعبہ کے چاروں طرف نماز پڑھنی جائز ہے۔ لیکن بیت اللہ شریف کا سامنے ہونا ضروری ہے۔ ناک کی سیدھ بیت اللہ کی طرف ہو اگر بیت اللہ شریف سامنے نہ ہوگا تو نماز ادا نہ ہوگی .

حرم شریف میں فجر کی اذان

حرم شریف میں فجر کی اذان صبح صادق کے فوری بعد بلا تاخیر ہو جاتی ہے اس لئے اس کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ بعد اشراق کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ اگر طلوع آفتاب کا صحیح وقت معلوم ہو تو سورج نکلنے کے پندرہ منٹ بعد اشراق کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔

واجب طواف یا کسی بھی اور نماز کے لئے یہ ممنوع اوقات ہیں عین طلوع آفتاب یا عین زوال یا عین غروب اگر کسی نے ان اوقات میں نماز شروع کی تو اس کا اعتبار نہیں ہے پھر پڑھنا واجب ہے۔ واجب طواف مکروہ وقت میں پڑھنا مکروہ ہے اکثر لوگوں نے یہ غلط سمجھ رکھا ہے.

کہ حرم شریف میں ہر چیز جائز ہے . دوسروں کی دیکھا دیکھی پاکستانی حضرات بھی عصر کی نماز کے بعد طواف کر کے فوری واجب طواف پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ ایسا نہ کریں اگر عصر کی نماز کے بعد طواف کیا تو دورکعت واجب الطواف مغرب کے فرضوں کے بعد پڑھے

حرم شریف میں مغرب کی اذان ک

حرم شریف میں مغرب کی اذان کے بعد چند منٹ کا وقفہ دیتے ہیں اور پھر جماعت کھڑی ہوتی ہے۔ اس وقفہ میں نماز واجب الطواف پڑھ لیں ۔ میر اسی طرح فجر کی اذان کے بعد سوائے سنت اور قضا نماز کے کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں۔ پھر فرض نماز کے بعد اور اشراق کے وقت سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھنا جائز نہیں ہے.

اس لئے واجب طواف طلوع آفتاب کے بعد اشراق کے وقت لیکن اشراق کی نماز سے پہلے پڑھے. ی نماز پڑھنے کے لئے طمانیت اور یکسوئی بہت ضروری ہے۔.حج کے ہجوم میں لوگ مطاف میں مقام ابراہیم سے قریب تر ہو .کر نماز پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں.وہ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں. اور طواف کرنے والوں کا ہجوم انہیں دھکے مارتا ہوا گزرتا جاتا ہے.

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ تو صحیح طریقہ سے قیام ہوتا ہے نہ رکوع نہ سجدہ ۔.حج کے ہجوم کے درمیان مردوں کے علاوہ عورتیں بھی مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنے کی کوشش میں دھکے کھاتی ہیں .جو شرعا انتہائی برا اور ناجائز ہے۔ اس سے بچیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مقام ابراہیم کے پیچھے واجب طواف پڑھنا افضل اور مستحب ہے لیکن یہ بھی

ایسی نماز کا کیا فائدہ؟ ایسی نماز کس کام کی؟

حقیقت ہے کہ ایسی بے اطمینانی کی نماز نماز نہیں ہوتی ہے پھر ایسی نماز کا کیا فائدہ؟ ایسی نماز کس کام کی؟ اس لئے حج کے ہجوم میں بہتر ہے کہ بالکل پیچھے چلے جائیں ۔ سامنے مقام ابراہیم ہوگا۔.

وہاں بھی اگر ہجوم ہو تو مسجد الحرام میں کسی جگہ بھی خصوصاً پہلی منزل پر سکون سے پڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ بحالت مجبوری یہ نماز ہوٹل یا گھر پر بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن اس کا پڑھنا ضروری ہے۔ اس لئے کہ یہ واجب ہے.

اس کی ادائیگی کا وقت فوت نہیں ہوتا یعنی تمام عمر میں کسی بھی وقت اور کہیں بھی ادا کر سکتا ہے.عوام کی اکثریت کو یہ معلوم نہیں ہے. کہ کن حالات میں مٹی و عرفات میں قصر نماز پڑھنی چاہیے اور کب پوری نماز پڑھنی چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کے وقت ایک دوسرے پر اعتراض کرنے لگتے ہیں۔

کوئی کہتا ہے کہ قصر ہو گی اور کوئی کہتا ہے کہ پوری نماز پڑھی جائے گی. اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اردو میں چھپی ہوئی حج کی کتابوں میں بھی قصر کی پوری تعریف نہیں لکھی ہوتی .اس لئے سب سے پہلے قصر کی مختصر تعریف سمجھیں ہیں

شریعت میں مسافر

شریعت میں مسافر اس کو کہتے ہیں جو اتنی دور جانے کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے جہاں تین دن میں پیدل پہنچ سکتے ہیں اور جب وہ اپنے شہر اور بستی ( یعنی آبادی ) سے باہر نکل آئے اور مکانات کو پیچھے چھوڑ

وے اس وقت سے قصر کرے.اسٹیشن اگر آبادی کے اندر ہے تو متعلقہ بستی کے حکم میں ہے. اور اگر آبادی سے باہر ہے تو اس بستی کے حکم میں نہیں ہے. عوام کی آسانی کے لئے خشکی میں اٹھتر کلو میٹر کی مسافت تین منزل

مٹی میں خیموں کا ایک منظر

کے برابر قرار دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ ایک ساتھ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو. موجودہ دور میں جبکہ تیز رفتار گاڑیاں اور ہوائی جہاز چلنے لگے ہیں. اٹھتر کلومیٹر کا سفر اگر ایک گھنٹہ یا اس سے بھی کم میں کرے گا. تب بھی شرعاً مسافر ہی رہے گا۔

ایک اہم

جی ایک اہم بات جس سے اکثریت ناواقف ہے وہ یہ کہ اگر کوئی شخص دو مقامات میں پندرہ روز

دونوں ٹھہرنے کی نیت کرے تو اگر وہ دونوں مقام مستقل جدا جدا ہوں. اور ان مقامات میں اس قدر فاصلہ ہو کہ ایک مقام کی ( بغیر لاؤڈ اسپیکر ) اذان کی آواز دوسرے مقام تک نہیں پہنچ سکتی. تو وہ مقیم نہیں ہوگا بلکہ مسافر تصور کیا جائے گا۔ مثلاً کوئی شخص چودہ دن یعنی آٹھ ذی الحج تک مکہ مکرمہ میں رہنے کا ارادہ کرے اور پانچ دن منی و عرفات میں رہے تو اس صورت میں بھی وہ مسافر ہی رہے گا۔

پس جو حاجی مکہ مکرمہ میں ایسے وقت پہنچا کہ 8 ذوالج تک پندرہ روز سے کم ہیں وہ مکہ مکرمہ میں پندرہ روز یا اس سے زیادہ کی اقامت کی نیت کرے. تو یہ نیت اقامت درست نہیں ہوگی. اور ایسا آدمی شرعاً مسافر ہی رہے گا۔ اس لئے کہ پندرہ دن کے اندر اندر وہ منی و عرفات ضرور جائے گا.ایسے حاجی کومنی و عرفات اور مزدلفہ میں قصر نماز پڑھنی ہوگی یعنی ظہر، عصر اور عشاء کی چار رکعت فرضوں کی بجائے دورکعت فرض پڑھنی ہوگی. فجر، مغرب اور وتر میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور

یہ تینوں نمازیں بدستور پڑھی جائیں گی۔

(لوٹ: البتہ مفتیان کرام کے نزدیک مکہ مکرمہ اور ایام حج کے تمام ایام ملا کر 15 دن بنتے ہوں تو مقیم شمار کئے جائیں گے اور مکمل نماز پڑھیں گے۔ لیکن

واضح رہے کہ دونوں آراء پر عمل کرنا جائز ہے۔

مسافر کے لئے ظہر

مسافر کے لئے ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نمازوں کو پورا پڑھنا مناسب نہیں ہاں اگر بھول کر پڑھ لی اور دوسری رکعت میں قعدہ کر لیا ہے تو دور کعت فرض اور دورکعت نفل ہو گئیں ۔ لیکن سجدہ سہو کرنا ہوگا۔ اگر غلطی سے پوری چار رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور گفتگو کر لی اور اس طرح سجدہ سہو کا موقع

نکل گیا تو چار رکعتیں نفل ہو گئیں اس لئے فرض نماز از سر نو پڑھے۔

سنتوں اور نوافل میں قصر

سنتوں اور نوافل میں قصر نہیں ہے یعنی جہاں چار سنتیں پڑھی جاتی ہیں مسافر بھی چار ہی پڑھے۔ سفر میں سنتوں کا حکم یہ ہے کہ اگر جلدی ہو تو سنتوں کو چھوڑنے میں مضائقہ نہیں ہے۔ ایسی حالت میں ان کی تاکید نہیں رہتی ہے۔

اگر جلدی نہیں ہے تو سنتوں کو ترک نہ کرے، خاص کر فجر کی سنتوں کو ۔ ہیں کوئی حاجی مکہ مکرمہ میں اس وقت مقیم تصور کیا جائے گا جب 7 ذی الحجہ تک اس کے کم سے کم پندرہ دن ہو گئے ہوں ۔ ایسے لوگ مکہ مکرمہ منی ،

عرفات اور مزدلفہ میں تمام نمازیں پوری پڑھیں۔

حرمین شریفین

حرمین شریفین میں مقیم امام نماز پڑھاتا ہے اس کے پیچھے مسافر ہوتب بھی پوری چار رکعت نماز پڑھنی ہوگی۔ بہت سے حجاج اپنی نا واقفیت کی وجہ سے امام کے پیچھے چار رکعت والی نماز میں دورکعت پر سلام پھیر دیتے ہیں یہ غلط ہے اور ایسا کرنے والے کی نماز نہیں ہوگی ہیں اسی طرح اگر امام مقیم ہو تو عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز میں پوری پڑھے اور مقتدی بھی پوری

نماز پڑھے خواہ وہ مسافر ہوا گر اپنے خیمہ میں نماز پڑھ رہے ہوں تو نماز شروع ہونے سے پہلے معلوم کرلیں کہ امام مقیم ہے یا مسافر یا اگر امام مسافر ہو تو قصر کرے اور مقتدی اگر مسافر ہوں تو وہ بھی قصر کریں۔

لیکن جو مقتدی مقیم ہوں وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد باقی دو رکعتیں پوری کریں ہیں عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کر کے اکٹھا پڑھنا واجب نہیں ہے یہ سنت ہے۔

عرفات

عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز کو جمع کر کے ظہر کے وقت پڑھنے کے لئے یہ شرط ہے. کہ دونوں نمازوں میں امیر وقت یا اس کا نائب قاضی و حاکم امام ہو. مسجد نمرہ میں ایسا ہی امام نماز پڑھاتا ہے.اس لئے صرف وہاں دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھی جاسکتی ہیں۔ یہ نمازیں ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں.

ظہر کے فرض کے بعد تکبیر تشریق اور تلبیہ پکارے. لیکن ظہر کی سنت نہ پڑھے عصر کی نماز کے بعد بھی ظہر کی سنت اور نفل نہ پڑھے. اس لئے کہ عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد کوئی نفل پڑھنا جائز نہیں ہیں

خیمہ میں نماز

لیکن اگر اپنے خیمہ میں اکیلے یا با جماعت نماز پڑھے .تو ظہر کی نماز ظہر کے وقت پڑھے۔ اوّل اور آخر کی سنتیں بھی پڑھیں پھر عصر کی نماز عصر کے وقت پڑھیں . مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا پڑھنے کے لئے جماعت شرط نہیں ہے خواہ

جماعت سے پڑھے یا تنہا دونوں کو اٹھا پڑھے. لیکن جماعت سے پڑھنا افضل ہے. مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے وقت جمع کرنا واجب ہے۔ اس کے لئے عرفات کی طرح امیر یا اس کا نائب یعنی قاضی یا خطیب ہونا .شرط نہیں ہے .جید اگر مزدلفہ میں عشاء کے وقت سے پہلے پہنچ گیا. تو جب تک عشاء کا وقت نہ ہو نماز مغرب نہ پڑھے.جب عشاء کا وقت ہو جائے تو ایک اذان اور تکبیر سے مغرب اور عشاء کی نماز پڑھے.

پہلے مغرب کی نماز ادا کرنے کی نیت سے پڑھے. اس کے بعد عشاء کی نماز کے لئے اذان اور تکبیر نہ کہے اور دونوں نمازوں کے درمیان سنت اور نفل بھی نہ پڑھے. عشاء کی نماز کے بعد مغرب اور عشاء کی سنتیں اور وتر پڑھے۔ اکثر لوگ حرم شریف میں سو جاتے ہیں. اور اُٹھ کر فوری نماز پڑھنے لگتے ہیں۔ خیال رہے.

کہ ٹیک لگا کر سو جانے سے وضوٹوٹ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھیں ورنہ نماز نہیں ہوگی۔ ہی عظیم بھی بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔ حطیم کے اندر بھی نوافل ضرور

پڑھیں۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *