How Many pillars in riaz ul jannah:ریاض الجنتہ کے ستون

How Many pillars in riaz ul jannah:ریاض الجنتہ کے ستون

ریاض الجنتہ کے ستون

اسطوانہ حنانہ اس جگہ کھجور کا تنا تھا جس پر ٹیک لگا کر حضور ﷺ خطبہ دیتے تھے۔ جب منبر تیار ہو گیا تو حضور ﷺ اس پر تشریف لے گئے تو اس تنے سے رونے کی آواز آنے لگی اس کی گونج سے پوری مسجد گونج اٹھی آپ ﷺ نے اس پر دست شفقت رکھا تو رونا بند ہو گیا۔

اسطوانہ عائشہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت کے اس حصے میں ایک ایسی جگہ ہے کہ لوگوں کو پتہ چل جائے تو لوگ

قرعہ ڈال کر اس جگہ نماز پڑھیں ، اسطوانہ عائشہ پر جو دعا مانگی جائے وہ دعاقبول ہوتی ہے۔

اسطوانہ ابی لبابہ اس جگہ حضرت ابولبابہ کی توبہ کی قبولیت کا واقعہ ہوا تھا

یہاں پر بھی دو رکعت نماز نفل ادا کریں۔ اسے ستون تو بہ بھی کہتے ہیں

اسطوانہ وفود یہ وہ مقام ہے جہاں باہر سے آنے والے وفود سے حضور ملاقات و گفتگو فرمایا کرتے تھے۔

اسطوانہ حرس آیت حفاظت نازل ہونے سے پہلے اس جگہ کھڑے ہو کر

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور اللہ کا حفاظتی پہرہ دیا کرتے تھے۔

حضرت علی نے بھی یہ خدمت انجام دی اسلئے اسے اسطوانہ علی بھی کہتے ہیں۔

اسطوانہ سر یر اس مقام پر نبی اکرم ﷺ اعتکاف فرماتے اور رات کو یہیں سرکار دو عالم ہے کے لئے بستر بچھا دیا جاتا تھا۔

اسطوانہ تہجد یہ وہ جگہ ہے جہاں حضور ﷺ نماز تہجد ادا فرماتے تھے

اسطوانہ جبریل یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت جبریل سے ملاقات ہوتی تھی۔ وصال سے پہلے رمضان میں حضور ﷺ نے حضرت جبریلکے ساتھ قرآن شریف کا دور فرمایا تو وہ یہی مقام تھا۔

نوٹ یہ دوستون اب بالکل روضہ مبارک ﷺ کے اندر آگئے ہیں۔ اس لئے باہر سے نظر نہیں آتے ۔

مذکورہ بالا مقامات متبرک ہیں جس پر رسول اللہ ﷺ کی نگاہ کرم پڑ چکی ہے موقع ملے تو یہاں سنن ونوافل ادا کرنے چاہئیں۔

صفحہ صفہ سائبان اور سایہ دار جگہ کو کہا جاتا ہے۔ قدیم مسجد نبوی ﷺ کے شمال مشرقی کنارے مسجد سے ملا ہوا ایک چبوتر اتھا یہ جگہ اس وقت باب جبرائیل سے اندر داخل ہوتے وقت مقصورہ شریف کے شمال میں محرابتہجد کے بالکل سامنے 2 فٹ اونچے پیتل کے کڑے میں گھری ہوئی ہے

اس کی لمبائی 40 فٹ اور چوڑائی بھی 40 فٹ ہے۔ اس کے سامنے

خدام بیٹھے رہتے ہیں اور یہاں لوگ قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں بیٹھ کر تلاوت قرآن ، نوافل، درود سلام پڑھیں ۔

گنبد خضراء حضرت نبی اکرم ﷺ کے روضہ اقدس کے اوپر سبز رنگ کا گنبد ہے. جس کو گنبد خضرا کہا جاتا ہے۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *