Hajj umrah key Masail:مسائل عمره

Hajj umrah key Masail:

مسائل عمره

عمرہ میں طواف قدوم، طواف زیارت، اور طواف وداع نہیں ہیں۔ عمرہ کا احرام باندھ کر مسجد الحرام میں داخل ہو کر جوپہلا طواف کیاجائے گا وہ عمرہ کا طواف ہو گا جو کہ فرض ہے۔

☆ جو شخص مکہ مکرمہ یا حدود حرم میں کسی بھی جگہ ہو.ا اگر اس کو عمرہ کرنا ہو تو واجب ہے. کہ حل سے احرام کی نیت کرے. حل وہ جگہ جو حدود حرم سے باہر اور میقات کے اندر ہے. مکہ مکرمہ کے چاروں طرف حرم ہے اور اس کی مسافتیں مختلف ہیں کسی جانب7 کلومیٹرکسی جانب 11 کلومیٹ ، کسی جانب 15 کلو میٹر حل ہے

عازمین حج بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے

مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف – آجائیں تو مقام معظیم ( مسجد عائشہ) پر حل کی حدود ختم ہو جاتی ہیں اور حرم کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کل جہاں حدود حرم ختم ہوتی ہیں وہاں نشانات لگے ہوئے ہیں۔ مسجد عائشہ ( تنعیم ) قریب ترین حل ہے۔

م جعرانہ مکہ مکرمہ سے 25 کلو میٹر ہے یہ بھی حدود حرم سے باہر ہے۔ حضور یا نے طائف سے آتے ہو ہوئے یہاں سے احرام باندھ کر عمرہ ادافرمایا تھا۔ مکہ مکرمہ میں حرم پاک سے باہر ہی تنظیم ( مسجد عائشہ ) اور جعرانہ دونوں جگہوں کے لئے ٹرانسپورٹ ملتی ہے۔

عمرہ کی بجائے کثرت سے طواف کرنا مستحب ہے۔ طواف اور عمرہ زندہ کے لئے بھی اور فوت شدہ مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے بھی کر سکتے ہیں۔ زیادہ طواف کرنا زیادہ عمرے کرنے سے افضل ہے۔ کیونکہ

مکہ مکرمہ کی سب سے بڑی عبادت طواف بیت اللہ شریف ہے۔

صفا مروہ کے درمیان حج و عمرہ کی سعی کرنے کا ثواب ہے۔ اس کے علاوہ خالی سعی کرنے کا ثواب نہیں ملتا ۔ نفلی سعی نہیں ہوتی ۔

آدمی جتنی بار عمرہ کرے سر پر استرہ پھر وائے ، چاہے سر پر بال ہوں یا نہ ہوں اس طرح احرام سے نکل جائے گا۔ جولوگ روزانہ عمرہ کریں وہ بھی ایسا کریں۔

احرام سے نکلنے کے لئے جو حلق کیا جاتا ہے اس میں سر پر بال ہونے ضروری نہیں ہیں۔ بعض لوگ ایک عمرہ کر کے چوتھائی سرمنڈوا دیتے ہیں پھر اگلے عمرہ کے بعد چوتھائی سرمنڈ وادیتے ہیں۔ پھر تیسرا اعمرہ کرنے کے بعد چوتھائی سرمنڈ وادیتے ہیں۔ پھر چوتھا عمرہ کرنے کے بعد چوتھائی سرمنڈ وادیتے ہیں۔ ایسا کرنا غلط ہے۔ حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے۔

ہی احرام کی حالت میں گرفتہ، پاجامہ، اچکن، صدری، بنیان ، جراب، پینٹ، ہاف پینٹ ، انڈرویئر ، یہ سب مرد کیلئے پہننا منع ہے۔ اگر مرد نے احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا اس طرح پہنا جس طرح اسکو عام طور پر پہنا جاتا ہے تو اگر ایک دن، ایک رات یا اکثر وقت کامل پہنا ہے تو دم واجب ہوگا اور اس سے کم میں اگر چہ ایک گھنٹہ پہنا ہو تو نصف صاع ( صدقہ ) واجب ہوگا اور ایک گھنٹہ سے کم پہنا ہو تو ایک مٹھی گیہوں صدقہ دے اور اگر ایک یا نصف روز سے زیادہ پہنے رہا تب بھی ایک ہی دم ہے اگر چہ کئی دن پہنے رہا ہو ۔ بہت سے لوگ حج یا عمرہ ہی کی خالص نیت سے آفاق سے آتے ہیں اور میقات سے احرام نہیں باندھتے ۔ جدہ آکر احرام باندھتے

ہیں ان پر دم واجب ہو جاتا ہے۔ ایسے حضرات کسی بھی میقات پر یا اس

سے پہلے احرام باندھیں اگر مکہ مکرمہ جانے سے پہلے جدہ میں ایک دو دن

ٹھہر نا ہو تو احرام کی حالت میں وقت گزاریں۔

مسائل طواف

ہی طواف کے لئے نیت اور وضو شرط ہے بغیر نیت کے کعبہ شریف کے گرد چکر لگانے سے طواف نہ ہوگا ۔ جیر جس طواف کے بعد سعی کرنا ہو اس میں 

رمل سنت ہے۔ ہم طواف با وضو کر نا ضروری ہے ۔ ہیلا طواف میں تیسراکلمہ پڑھتے رہنا چاہیے ۔ 7 حوائج ضروریہ کو روک کر طواف کرنا مکروہ ہے۔ ہے۔ حجر اسود کا بوسہ لینے کیلئے دوسرے طواف کر نیوالوں کو دھکے دینا حرام ہے ۔ بعض لوگ حجر اسود پر خوشبو لگا دیتے ہیں احرام کی حالت میں اگر وہاں خوشبو لگی ہوتو ہاتھ اور منہ سے بوسہ نہ دے صرف دور سے استلام کرے طواف کرتے ہوئے کعبہ شریف کی طرف دیکھنا منع ہے۔ ہم طواف حمید کے چکروں کی تعداد میں اگر شک پڑ جائے تو جہاں سے شک پڑا ہے وہاں سے شروع کرے۔ کم کا اعتبار کرتے ہوئے ، یعنی اول کا اعتبار کریں۔ بہتر ہے سات دانوں والی تسبیح طواف استعمال فرمائیں۔

مسائل سعی

سعی کے صحیح ہونے کی کچھ شرطیں ہیں یعنی ۔ یہ خود سعی کرنا ، حمد ہ پورا طواف یا اس کا اکثر حصہ یعنی چار چکر یا زیادہ ادا کرنے کے بعد سعی کا کرنا۔ جیو حج یا عمرہ کے احرام کا سعی پر مقدم ہونا ۔ جی سعی صفا سے شروع کرنا اور مردہ پرختم کرنا۔ ہیو سعی کا اکثر حصہ (یعنی سات چکروں

میں سے چار چکر ) ادا کرنا شرط ہے۔

رکن سعی

سعی کا صفا اور مروہ کے درمیان کرنا سعی کا رکن ہے۔

واجبات سعی

ہی سعی کا ایسے طواف کے بعد ہونا جو جنابت ، حیض اور نفاس سے پاک

می ہونے کی حالت میں کیا جائے ۔ حمد و سعی کے سات چکر لگانا۔ ید اگر کوئی عذر نہ ہو تو سعی میں پیدل چلنا ۔ یہ عمرہ کی سعی کا احرام کی حالت میں ہونا ۔ جیل صفا اور مروہ کے درمیان کا پورا فاصلہ طے کرنا۔ ترتیب یعنی صفا سے شروع کرنا اور مروہ پرختم کرنا۔

سنن سعی

سعی کی سنتیں یہ ہیں جو سعی کے لئے جانے سے پہلے حجر اسود کا نواں استلام کرنا سنت موکدہ ہے یہ طواف اور سعی میں موالات ( اتصال ) ہونا حمد صفا اور مروہ تک آنا ہی صفا اور مروہ پر آنے کے بعد قبلہ رو کھڑے ہونا۔ یو سعی کی نیت کرنا (امام احمد کے نزدیک نیست شرط ہے، باقی تین آئمہ کے نزدیک سنت ہے ) جو سعی کے چکروں کو پے بہ پے کرنا ہی مردوں کیلئے ہر چکر میں سبز ٹیوب لائٹس کے درمیان دوڑ کر تیز چلنا ، عورتوں

کیلئے یہ فاصلہ عام رفتار سے طے کرنا ۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *