Hajj ki Tarteeb Hajj ke Faraiz ur Hajj ada kerne ka Tarika

Hajj ki Tarteeb Hajj ke Faraiz ur Hajj ada kerne ka Tarika

حج کی ترتیب

گھر سے روانگی

حدود میقات سے پہلے یا حدود میقات پر پہنچ کر عمرہ کا احرام باندھنا۔

مسجد الحرام میں داخل ہونا اور خانہ کعبہ کا طواف مقررہ طریقہ پر کرنا۔

طواف کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا حلق یا قصر کرانا

آٹھ ذی الحجہ کو طواف قدوم ( صرف حج قران کرنے والوں کیلئے

نو ذی الحجہ کو عرفات میں جانا اور مسجد نمرہ میں ظہر و عصر کی نماز ملا کر پڑھنا۔

تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ نماز امام حج کی امامت میں ( مسجد نمرہ

میں ) ادا کرے بصورت دیگر اپنے خیموں میں ظہر کے وقت ظہر اور عصر

کے وقت عصر کی نماز پڑھے۔ وقوف عرفات کرے۔ 10 ذی الحجہ کی شب کو مزدلفہ پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنا، رات کو وہاں قیام کرنا تقریباً 70 کنکریاں رمی جمرات کے لیے

اکٹھی کرنا۔ 10 ذی الحجہ کو وقوف مزدلفہ کے بعد مزدلفہ سے چل کرمنی میں آنا

اور بڑے جمرہ کو کنکریاں مارنا۔

قربانی کرنا ، سر کے بال منڈوانا اور احرام کھول دینا۔

10 ذی الحجہ کو سر منڈوانے کے بعد مکہ مکرمہ جا کر طواف زیارت

کرنا پھر صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا اور پھر مٹی واپس آنا۔

12,11 ذی الحجہ کو مٹی میں قیام ، تینوں جمرات پر بالترتیب

سات سات کنکریاں مارنا۔

12 ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ واپس جا کر نفلی طواف کیجئے اور آب

زم زم پی کر خدا کا شکر ادا کیجئے ۔ دورکعت نفل شکرانہ ادا کیجئے ۔

مٹی میں خیمہ بستی

فرائض حج

فرائض حج حج میں 3 فرض ہیں ۔

احرام باندھنا یعنی دل سے حج کی نیت کر کے

تلبیہ یعنی لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، آخر تک پکارنا ۔

وقوف عرفات و ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے بعد سے غروب

آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا اگر چہ تھوڑی سی دیر کے لئے ہو۔

طواف زیارت جو کہ 10 ذی الحجہ طلوع آفتاب سے 12 ذی الحجہ کے

غروب آفتاب سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔

ان تینوں فرائض میں سے اگر کوئی چیز چھوٹ جائے تو حج نہ ہو گا

اور اس کی تلافی دم دینے سے بھی نہیں ہو سکتی۔

واجبات حج

واجبات حج حج کے واجبات چھ ہیں۔

دلفہ میں وقوف صبح فجر کی نماز سے لے کر طلوع آفتاب تک ٹھہرنا۔*

رمی جمار یعنی تینوں شیطانوں پر کنکریاں مارنا۔*

قربانی کرنا۔*

حلق یا قصر کرانا۔*

نوٹ: رمی ، قربانی اور حلق کو بالترتیب کرنا بھی واجب ہے۔

صفا و مروہ کی سعی کرنا۔ ( زیارت طواف کے بعد )۔

:واپس اپنے ملک جانے سے پہلے آفاقی یعنی میقات سے باہر رہنے

والے کا طواف وداع کرنا۔

اگر ان میں سے کوئی واجب چھوٹ جائے گا. تو حج ہو جائے گا مگر قصداً چھوڑا ہو یا بھول کر لیکن اس کا کفارہ لازم ہوگا۔ اس کی تفصیل

جنایات کے بیان میں آئے گی۔ انشاء اللہ

سنن حج) مفرد آفاقی اور قارن کو طواف قدوم کرنا۔

طواف قدوم میں رمل اور اضطباع کرنا (اگر اس کے بعد سعی کرنا ہو، اگر طواف قدوم کے بعد سعی نہ کی تو طواف زیارت کے بعد سعی کرنی ہوگی اور اس وقت زیارت طواف میں رمل کرنا ہوگا اگر چہ شلوار قمیض ہی پہنی ہو۔ 8 ذی الحجہ کی صبح کومٹی کے لئے روانہ ہونا اور وہاں پانچ

نمازیں پڑھنا۔

۴: طلوع آفتاب کے بعد 9 ذی الحجہ کومنٹی سے عرفات کیلئے روانہ ہونا : عرفات سے غروب آفتاب کے بعد امام حج سے پہلے روانہ نہ ہونا ۔

: عرفات میں غسل کرنا۔

ہے: عرفات سے واپس ہو کر رات کو مزدلفہ میں ٹھہرنا۔

: ایام مٹی میں رات کو منی میں رہنا۔

سنت کا حکم یہ ہے کہ قصد ترک کرنا برا ہے اور ان کے ادا کرنے سے ثواب ملتا ہے اور ان کے ترک کرنے سے کفارہ لازم نہیں آتا۔

نوٹ: ہر مسلمان کو دل و جان سے سنت رسول علیہ پر عمل کرنا چاہیے۔

حج کی ادائیگی کا طریقہ

8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک کے دنوں کو ایام حج کہا جاتا ہے حج کا پہلا دن 7 ذی الحجہ مغرب کے بعد 8 ذی الحجہ کی رات شروع ہو جائے گی ، رات ہی کو مٹی کے لئے سب روانگی کی تیاری کر لیں غسل کریں غسل کرنے کے بعد احرام کی چادر میں باندھیں اور دو رکعت نفل ادا کریں۔ نفل کی ادائیگی کے بعد حج تمتع کی نیت کریں۔

حج کی نیت

اللهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرُهُ لِي وَتَقَبَّلُهُ مِنى

ترجمہ اے میرے اللہ ! میں حج کی نیت کرتا ہوں پس اس کو میرے لئے آسان کر دے اور مجھ سے قبول فرمالے۔

اس کے بعد بلند آواز سے تین مرتبہ تلبیہ پکاریں جو کہ فرض ہے۔ آہستہ آواز سے درود شریف پڑھیں ۔ اب آپ پر احرام کی پابندیاں لازم ہو گئیں۔

حج کا پہلا دن (8 ابی الحجہ )

مٹی کی طرف روانگی عام طور پر 8 ذی الحجہ کی صبح فجر کی نماز سے فارغ ہو کر مٹی کے لئے روانگی شروع ہوتی ہے. جبکہ بعض مکتب والے سات ذی الحجہ کی رات کو ہی حجاج کرام کوئی لے جاتے ہیں. اس سفر میں تلبیہ کثرت سے پکاریں اس وقت اللہ تعالیٰ کو آپ کے یہ کلمات بہت پسند ہیں۔

جتنی کثرت سے عازمین حج اس کو پکاریں گے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا قرب حور کے طفیل آپ کے ساتھ ساتھ ہوگا۔ اس کے ساتھ استغفار پڑھتے رہیں. اور درود شریف کی کثرت رکھیں۔ ظہر سے پہلے آپ انشاء اللہ مٹی پہنچ جائیں گے۔ آپکے معلم نے آپ کے لئے خیمہ میں قیام کی جگہ کا انتظام کیا ہوگا وہاں آپ آرام کریں۔ یہاں آج کے دن ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور 9 ذی الحج کی فجر کی نما مٹی میں ادا کرنا شامل ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی پانچ نمازیں مٹی میں ادا فرمائی تھیں۔ مٹی کو روانگی 8 ذی الحجہ کو نجر

سے پہلے رات میں بھی کسی وقت ہو سکتی ہے۔

آج کا سارا دن اور ساری رات منی ہی میں بسر ہوگی۔ یہ عبادتوں کے دن ہیں۔ عبادتوں کی راتیں ہیں اور لوگ اس مالک کو یاد کرتے ہیں جو ان سب کا مولا ہے۔ رات اس کے حضور اس کی عبادت اور اس کی جناب میں گریہ زاری میں بسر ہوتی ہے۔ اللہ کا بندہ سب سے الگ اپنے رب کے سامنے اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہے۔

حج کا دوسرا دن (9 ذی الحجہ )

فجر کی نماز منی میں ادا کرنے کے بعد جب سورج نکل آئے تو عرفات جانا ہے۔ آج حج کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ ادا کرنا ہے جسکے بغیر حج نہیں ہوتا۔ سورج طلوع ہونے کے بعد جب کچھ دھوپ پھیل جائے تو مٹی سے عرفات کیلئے روانہ ہو جائے جو منی سے تقریب 9 کلو میٹر ہے۔ اس دوران دعائیں پڑھی جائیں۔ حاجیوں کے قافلے فجر کی نماز کے بعد عرفات پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جس قدر ہو سکے تلبیہ، درود شریف اور کلمہ چہارم جو حضور اے نے اس جگہ پڑھا اور پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے ، خوب پڑھیں اور میدان عرفات میں پہنچ کر جبل رحمہ پر نظر پڑتی ہے۔ یہی وہ پہاڑ ہے جس پر نبی اکرم ﷺ نے آخری حج کے موقع پر خطاب فرمایا تھا۔ جبل رحمۃ پر نظر پڑے تو تسبیح و تہلیل و تکبیر کہے اور جو

جی چاہے مانگے ۔ عرفات پہنچ کر اپنے خیمے میں قیام کیجئے ۔

و ذی الحجہ کو زوال کے بعد سے 10 ذی الحجہ کی صبح صادق تک کے درمیانی حصہ میں احرام حج کی حالت میں کسی قدر بھی اگر عرفات میں ٹھہر جائے یا وہاں سے گزر جائے تو حج ہو جائے گا۔ اگر اس وقت میں ذرادیر کو بھی عرفات میں نہ پہنچا تو حج نہ ہوگا اور زوال کے بعد سے غروب تک عرفات میں ٹھہرنا واجب ہے۔ جو شخص اس وقت میں نہ پہنچ سکے وہ آنے والی رات میں کسی وقت بھی پہنچ جائے تو اس کا حج ہو جائے گا۔

مستحب یہ ہے کہ زوال آفتاب کے بعد غسل کرے اور اس کا موقع نہ ملے تو وضو کرے اور اول وقت میں نماز ادا کر کے وقوف شروع کر دے۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی امام حج کی اقتداء میں پڑھی جائے یعنی عصر کو بھی ظاہر ہی کے وقت میں پڑھ لے۔ وہاں مسجد نمرہ میں امام صاحب دونوں نمازیں اکٹھی پڑھاتے ۔ ہیں لیکن چونکہ ہر شخص وہاں پہنچ نہیں سکتا اور سب حاجی اس میں سما بھی نہیں سکتے اور بغیر امام حج کی اقتداء کے دونوں نمازوں کو جمع کرنا درست بھی نہیں ہے۔ اس لئے پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، ہندوستان، وغیرہ کے حنفی علمائے کرام حاجیوں کو یہ فتوی دیتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے خیموں میں ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں اور

عصر کی نماز عصر کے وقت میں باجماعت پڑھیں اور نمازوں کے علاوہ جو

وقت ہے اسے ذکر ودعا تلبیہ میں گزاریں۔ (بحوالہ کتاب طریقہ حج وعمرہ ) ۔

جب سورج غروب ہو جائے تو بغیر نماز مغرب پڑھے عرفات سے مزدلفہ روانہ ہو جائیں۔ عرفات اور منی کے درمیان منی سے مشرق کی سمت حدود حرم میں داخل ہو کر تقریب 4.5 کلومیٹر کا میدان ہے جسے مزدلفہ کہتے ہیں۔ اسی میدان کی آخری حد پر ایک پہاڑ ہے جسے مشعر الحرام کہتے ہیں .

. راستہ میں تسبیح ، ذکر اور تلبیہ میں مصروف رہیں ۔ حدود مزدلفہ میں جہاں بھی جگہ مل جائے بہتر ہے۔ عرفات سے مزدلفہ آتے ہوئے راستہ میں مغرب کی نماز نہ پڑھیں یا درکھیں مغرب اور عشاء کی نمازیں آپ کو مزدلفہ میں ملا کر پڑھنی ہیں اس لئے آپ کو عشاء کے وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔

جب عشاء کا وقت ہو جائے. تو مغرب اور عشاء دونوں نمازیں ایک ہی وقت میں اس طرح پڑھیں کہ پہلے مغرب کے فرض اور عشاء کے فرض ادا کرنے کے بعد مغرب کی سنتیں اور نوافل اور پھر عشاء کی سنتیں وتر اور نوافل ادا کریں، یعنی دونوں نمازوں کے فرضوں کے درمیان کوئی

سنت یا نفل نہ پڑھیں ۔

مزدلفہ میں آمد

مزدلفہ میں آمد یہ رات آپ کو مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے بسر کرنی

ہے۔ نماز کی ادائیگی سے فراغت کے بعد کچھ دیر آرام کر سکتے ہیں پھر اٹھ کر تازہ دم ہو کر عبادت میں مشغول ہو جائیں ۔ یہ رات آپ کیلئے بہت زیادہ افضل ہے ۔ اس رات انوار الہی کی بارش ہوتی ہے۔ مزدلفہ میں رات بسر کرنے والوں کو رحمت الہی اپنے دامن میں لے لیتی ہے۔ بہتر ہے.

کہ رات جاگ کر گزاری جائے۔ لیکن تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ ہو تو سو بھی سکتے ہیں۔ عبادت ، ذکر ، استغفار تو بہ اور درود شریف میں مشغول رہیں۔ نفل پڑھیں رات بھر اپنے لئے . اہل و عیال کیلئے اور اپنے والدین کیلئے بخشش ، رحمت اور کرم کی دعائیں مانگیں ۔ آج کی رات دل سے نکلی ہوئی کوئی دعا انشاء اللہ رد نہیں ہوتی بلکہ ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ امت مسلمہ کیلئے دعائیں مانگیں اور جمرات کی رمی کیلئے ستر کنکریاں تھیلی میں ڈال لیں۔ کنکری کھجور کی گٹھلی یا مٹر

کے دانے کے برابر ہو۔

حج کا تیسرا دن (10) ذی الحجہ )

حج کا پہلا واجب وقوف مزدلفہ آج ذی الحجہ کی 10 تاریخ ہے۔ اس دن آپ حج کے چند احکام ادا کریں گے۔ پہلا حکم وقوف مزدلفہ ہے

جو واجب ہے اس کا وقت طلوع فجر سے لے کر سورج نکلنے تک ہے۔ اگر کوئی شخص طلوع فجر کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر کر مٹی چلا جائے سورج نکلنے کا انتظار نہ کرے تو بھی واجب وقوف ادا ہو گیا۔ واجب کی ادائیگی کے لئے

اتنا بھی کافی ہے کہ فجر کی نماز مزدلفہ میں پڑھ لے مگر سنت یہی ہے کہ سورج نکلنے سے کچھ پہلے تک ٹھہرے، مزدلفہ کے تمام میدان میں جہاں چاہیں وقوف کر سکتے ہیں۔ افضل یہ ہے کہ جبل قزح کے قریب وقوف کیا جائے اگر وہاں بھیڑ ہو تو مزدلفہ میں جس جگہ ٹھہرا ہے وہیں صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھ کر وقوف کر لے اس وقوف میں بھی تلبیہ تکبیر تہلیل، استغفار، تو بہ اور دعا کثرت سے کی جائے۔ وقوف مزدلفہ واجب ہے اس

لئے اس کو چھوڑنے پر دم لازم آتا ہے۔

مزدلفہ سے منی سورج نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے مزدلفہ سے منی کے

لئے روانہ ہو جانا چاہیے۔ اس کے بعد دیر کرنا خلاف سنت ہے۔

دوسرا واجب بڑے جمرہ کی رمی ) آج صرف بڑے جمرہ کوسات کنکریاں مارنی ہیں۔مزدلفہ سے جب چل کرمٹی پہنچیں تو پہلے اور دوسرے جمرہ کو چھوڑ کر سیدھا جمرہ عقبہ پر جائیں۔ تلبیہ پکارنا بند کر دیں

اس کے بعد یہ دعا پڑھ کر سات کنکریاں ماریں۔

بِسْمِ اللهِ اللَّهُ أَكْبَرُ رَغُمَا لِلشَّيْطَانِ وَرِضًا لِلرَّحْمنِ

ترجمہ: میں اللہ کا نام لے کر کنکریاں مارتا ہوں ، شیطان کو ذلیل کرنے اور

رحمن کو راضی کرنے کے لئے ۔

ری کرتے ہوئے ہر کنکری مارتے وقت تکبیر بسم الله الله اكبر .

پڑھیں ۔ سب حاجیوں کے لئے یہی حکم ہے۔ جمرہ عقبہ کی رمی کا مسنون وقت سورج نکلنے سے لے کر زوال

تک ہے اور زوال سے سورج ڈوبنے تک وقت جواز ہے یعنی اس میں نہ استحباب ہے اور نہ کراہت اور غروب آفتاب کے بعد وقت مکروہ ہو جاتا ہے مگر کمزور معذور، بیمار اور عورتوں کے لئے غروب آفتاب کے بعد بھی مکروہ نہیں ہے۔

بوڑھے، بیمار ، مرد ، عورتیں اور بچے نیچے کے حصہ میں نہ جائیں

کنکریاں مارتے وقت اگر کوئی چیز نیچے گر جائے تو اسے ہرگز اٹھانے کی کوشش نہ کریں کسی بھی وجہ سے نہ جھکیں ورنہ کچلے جانے کا خطرہ ہے۔ مسئلہ جو لوگ خود رمی کر سکتے ہیں ان کی طرف سے دوسرے لوگ رمی نہیں کر سکتے جو لوگ رمی کر سکتے ہیں اور وہ خود نہیں کرتے تو انہیں رمی چھوڑ نے

کا گناہ ہوگا اور دم واجب ہو جائے گا۔

مسئلہ: جو لوگ دوسروں کو نائب بناتے ہیں کہ وہ ان کی جگہ رمی کریں ان کے لئے بہتر ہے کہ غروب آفتاب کے بعد وہ رمی خود کر لیں۔ مسلم عورتوں کو تکلیف کے اندیشہ سے رات کو رمی کروادیں۔

مکہ مکرمہ میں جنت المعلی کا قبرستان

حج کے دوران رمی کا ایک منظر

مسئلہ: اگر کسی نے صبح صادق تک رمی نہیں کی تو قضاء ہوگئی ، گیارہویں

تاریخ کو اس کی بھی قضاء کرے اور دم دے۔

قربانی

قربانی جمرہ عقبہ ( بڑے شیطان ) کی رمی سے فارغ ہو کر بطور شکرانہ حج کی قربانی کریں۔ یہ حضرت اسماعیل کی یادوالی قربانی نہیں۔ اس قربانی کو دم شکر ، دم تمتع ، یادم قران کہا جاتا ہے۔ اس قربانی کے کرنے والے کی نیت یہ ہونا چاہیے کہ وہ حج کا واجب ذبیحہ ادا کر رہا ہے۔ اگر حج افراد کرنے والا ہو تو اس کے لئے مستحب ہے اور قارن اور متمتع پر واجب ہے

جب تک قربانی نہ ہو جائے تب تک سر کے بال نہ منڈ وائیں۔ مسلم بکری، دنبہ یا بھیڑ جس کی عمر کم از کم ایک سال ہو ذبح کرے یا پانچ

سالہ اونٹ یا دو سالہ گائے میں ساتواں حصہ لے لیں۔

مسئلہ: اگر متمتع اور قارن کے پاس قربانی کی گنجائش نہ ہو تو اس کے بدلے دس روزے رکھ لے لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ تین روزے دس ذی الحجہ سے پہلے رکھ لئے ہوں اور سات روزے ایام تشریق گزر جانے کے بعد رکھے ، خواہ مکہ مکرمہ میں ہو خواہ کسی اور جگہ لیکن گھر آ کر رکھنا افضل ہے۔ اگر کسی نے 10 ذی الحجہ سے پہلے تین

روزے نہ رکھے تو اسے قربانی ہی کرنا پڑے گی ۔ اگر اس وقت قربانی کی قدرت نہیں ہے تو سر منڈوا کر یا بال کٹا کر احرام سے نکل جائے۔ لیکن جب قدرت ہو جائے تو ایک دم قرآن یا تمتع کا اور ایک دم ذبح سے پہلے حلال ہونے کا دے دے یعنی دو قربانیاں دے اور اگر ایام نحر کے بعد ذبح

کرے تو ایام نحر سے موخر کرنے کا دم لازم ہو گا۔

مسئلہ: قربانی دسویں، گیارہویں ، بارہویں ذی الحجہ میں سے کسی تاریخ میں کرنالازمی ہے۔ جب تک قربانی نہ کرے اس وقت تک اس کو سرمنڈوانا یا بال کٹانا جائز نہیں ہے۔ اگر ایسا کرے گا تو ایک دم واجب

ہوگا جو حج کی قربانی کے علاوہ ہوگا۔

مسئلہ: کسی وجہ سے دسویں ذی الحجہ کو قربانی نہ کر سکے تو گیارہ یا بارہ ذی الحجہ

کو کر دے۔

سرمنڈوانا

سرمنڈوانا قربانی سے فارغ ہونے کے بعد حاجی سر کے بال منڈوائیں یا کٹوائیں لیکن منڈوانا بہتر ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے حلق کروانے والوں کیلئے تین مرتبہ اور قصر کروانے والوں کیلئے ایک مرتبہ بخشش کی دعا فرمائی۔ عورتوں کیلئے سر کے بال منڈوانا جائز نہیں صرف ایک پور کے

برابر بال چڑیا سے کٹوائیں۔ آپ کے ساتھ آپ کی بیوی، بہن یا جسکے بھی

آپ محرم ہوں اس کے سر کے بال ایک انگلی کے پور کے برابر کر دیں۔

بال کٹوانے کے بعد احرام کھول دیں اور روز مرہ کا لباس پہن لیں ۔

طواف زیارت

طواف زیارت اپنے روز مرہ لباس میں کیا جاتا ہے، احرام کی حالت میں نہیں۔ زیارت طواف کا افضل وقت دسویں ذی الحجہ ہے اگر بارہ ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کر لیا جائے تو جائز ہے. اور اگر بارہویں تاریخ گزرگئی اور زیارت طواف نہیں کیا تو تاخیر کی وجہ سے دم دینا واجب ہوگا اور طواف بھی فرض رہے گا ۔ یہ طواف کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کوئی بدل دے کر ادا ہو سکتا ہے۔ آخری عمر تیک اس کی ادائیگی فرض رہتی ہے اور جب تک اس کو ادا نہیں کیا جائے گا، میاں بیوی سے متعلق پابندیاں برقرار رہیں گی۔ حج کے تیسرے فرض کی ادائیگی کے بعد آپ کے لئے جو کچھ احرام سے پہلے

حلال تھا وہ سب حلال ہو گیا۔

صفا و مروہ

صفا و مروہ کے درمیان سعی وقوف عرفات سے پہلے یعنی مکہ مکرمہ پہنچی کر آپ نے صرف عمرہ کی سعی کی تھی حج کی سعی نہیں کی تھی اس کیلئے طواف زیارت کے بعد آپ پر صفا مروہ کے درمیان سعی واجب ہے۔ یہ سعی آپ بغیر احرام کے اپنے روز مرہ کے کپڑوں میں کریں گے۔ اس سعی

کے بعد بال نہیں کٹوائے جاتے ، کیونکہ بال آپ قربانی کے بعد کٹوا چکے ہیں اور احرام اس سے پہلے ختم ہو جاتا ہے۔ اب آپ فارغ ہو کر پھر منی چلے جائیں زیارت طواف کے بعد دورات اور دو دن منی میں قیام کرنا ہے

حج کا چوتھا دن (11 ذی الحجہ )

اگر آپ کسی وجہ سے دس ذی الحجہ کو قربانی یا طواف زیارت نہیں کر سکے تو آج کر لیں ۔ گیارہ ، بارہ، تیرہ ذی الحجہ کو ایام رمی کہا جاتا ہے۔ اس لئے ان دنوں میں رمی ہی وہ عبادت ہے جس کیلئے منی میں قیام کرنا سنت مؤکدہ اور بعض علماء کے نزدیک واجب ہے اور منی سے باہر مکہ مکرمہ

مسجد نمره

میں یا کسی اور جگہ رات گزارنا نا پسندیدہ ہے ۔ آج رمی کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہو کر غروب آفتاب تک ہے غروب آفتاب کے بعد مکروہ ہے ۔ جمرہ اولی ( چھوٹا شیطان ) سب سے پہلے آئے گا اس پر سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر بِسمِ اللهِ اللهُ أَكْبَرُ پڑھیے ۔ رمی کے بعد دائیں جانب ہٹ کر قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کریں تو بہ استغفار اور تسبیح و ذکر کے بعد درود شریف پڑھیں.

اپنے لئے اپنے گھر بار اور دوست احباب کیلئے دعا کریں۔ اسکے بعد تھوڑا آگے چل کر جمرہ وسطی ( درمیانہ شیطان ) پر آئیں اور اسی طرح اسکو سات کنکریاں ماریں پھر کنکریاں مار کر دائیں جانب ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر دعا مانگیں۔ پھر اسکے بعد جمرہ عقبہ ( بڑا شیطان ) پر اسی طرح سات کنکریاں اسکو بھی ماریں جسطرح پہلے ماری تھیں مگر اس جمرہ پر ٹھہر نے یا دعا مانگنے کا ثبوت نہیں بلکہ اس کے بعد سیدھے اپنی قیام گاہ پر چلے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔

حج کا پانچواں دن (12 ذی الحجہ )

آج کا مخصوص کام تینوں جمرات کی زوال کے بعد رمی کرنا ہے۔ بالکل اسی ترتیب اور اسی طریقہ سے جس طرح آپ کل کر چکے ہیں رمی کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے رمی کرنا جائز

نہیں زوال کے بعد غروب آفتاب تک مسنون ہے۔ بوڑھوں ، بیماروں اور عورتوں کو رات کے وقت ہی رمی کرنا چاہیے تا کہ مردوں کے ہجوم سے بیچ سکیں ۔ الحمد اللہ آپ کا حج مکمل ہو گیا۔ لہذا غروب آفتاب سے پہلے حدود مٹی سے نکل کر مکہ مکرمہ واپس آجائیں۔

حج کا چھٹا دن (13 ذی الحجہ، اختیاری )

اگر آپ 13 ذی الحجہ کی صبح تک مٹی کی حدود میں ہی تھے تو اب مکہ مکرمہ میں نہ جائیں بلکہ 13 ذی الحجہ کو بعد از زوال کنکریاں تینوں جمرات کو مار کر پھر مکہ مکرمہ جائیں گے۔ زوال سے پہلے بھی کنکریاں مار سکتے ہیں۔ اگر امی کے بغیر چلے گئے تو دم دینا پڑے گا اب حج کے تمام

ارکان ادا ہو چکے ہیں۔

طواف وداع میقات سے باہر زہنے والوں پر واجب ہے کہ زیارت طواف کے بعد رخصتی کا طواف بھی کریں۔ اس کو طواف وداع اور طواف صدر بھی کہتے ہیں اور یہ حج کا چھٹا اور آخری واجب ہے۔ اس میں حج کی تینوں قسمیں برابر ہیں یعنی ہر قسم کا حج کرنے والے پر واجب ہے۔ یہ طواف بغیر احرام کے کیے جاتا ہے اور اس کے بعد سعی نہیں کرنا ہوتی ۔ یہ طواف

اہل حرم اور حدود میقات کے اندر رہنے والوں پر واجب نہیں جو عورت حج کے سب ارکان و واجبات ادا کر چکی ہے اور طواف زیارت کے بعد اسے حیض آگیا اور ابھی پاک نہیں ہوئی ہے کہ اس کا محرم روانہ ہونے لگا تو طواف وداع اس کے ذمہ واجب نہیں ہے وہ طواف وداع کئے بغیر اپنے

محرم کے ساتھ چلی جائے ۔ اس سے کوئی حرج لازم نہیں آئے گا۔ طواف وداع کیلئے نیت بھی ضروی ہے اگر طواف زیارت کے

بعد کوئی طواف نقلی کر لیا تو وہ بھی طواف وداع کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ افضل یہ ہے کہ مستقل نیست سے عین واپسی کے وقت پر طواف وداع کرے طواف وداع میں طواف کے بعد دو رکعت نماز واجب الطواف پڑھیں۔ دورکعت نماز کے بعد حرم پاک میں رکھے ہوئے کولروں سے خوب سیر ہو کر آب زم زم ہیں اور نہایت عاجزی سے دعائیں مانگیں۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *