Darbar e Rsalat ki Fazeelat:دربار رسالت کی فضیلت

Darbar e Rsalat ki Fazeelat:دربار رسالت کی فضیلت

دربار رسالت کی فضیلت

حج کے بعد ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دربار رسالت ﷺ کی حاضری کی سعادت حاصل کرے۔ اسلئے کہ حضوری ہے اس کائنات میں رحمتوں کی سرکار بن کر تشریف لائے. جو اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے عظیم ہستی ہیں، وجہ تخلیق کائنات ہیں، جن پر فرشتے درود بھیجتے ہیں . جنکے ذکر سے دلوں کو سکون واطمینان نصیب ہوتا ہے، وہ جو دونوں جہان کے بادشاہ ہیں، وہ جن کے در کی گدائی کو بادشاہ ترستے ہیں.

دل سوئے مدینہ منورہ کھنچا جاتا ہے، مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا سفر محبت کا سفر ہے، دل کی دھڑکنوں کا سفر ہے. آنکھوں سے رواں آنسوؤں کا سفر ہے۔

جب آپ مدینہ منورہ پہنچ جائیں تو اپنا سامان اپنی رہائش گاہ میں رکھیں ، اگر ممکن ہو تو غسل کریں ورنہ صرف وضو کریں، وضو کریں۔ دانت صاف کریں صاف ستھرا لباس پہنیں، ( ہو سکے تو سفید لباس پہنیں) کیونکہ سفید لباس حضور ﷺ کا پسندیدہ لباس تھا۔ خوشبو لگا ئیں اور روضہ الله رسول ﷺ پر حاضری کے ارادہ سے مسجد نبوی ﷺ کی طرف روانہ ہوں ۔

راستہ بھر درود پاک کا ورد کرتے رہیں۔

مسجد نبوی ﷺ کی فضیلت

مسجد نبوی ﷺ کی فضیلت حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے .میری مسجد میں ایک نماز با جماعت پڑھنے کا ثواب پچاس ہزار نمازیں باجماعت پڑھنے

کے برابر ہے، سوائے مسجد الحرام کے کہ وہاں ایک نماز با جماعت پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ نمازیں باجماعت پڑھنے کے برابر ہے۔ مسجد نبوی ہے میں داخل ہوتے وقت مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھیں.

پھر اعتکاف کی نیت کریں اور دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد پھر درود وسلام پیش کرنے کے لئے آگے ریاض الجنتہ اور مواجہہ شریف کی طرف جائیں۔

مسجد نبوی ﷺ کے بارے میں حضرت انس سے روایت ہے کہ تاجدار ختم المرسلین ﷺ نے فرمایا, جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھے. کہ ایک نماز بھی اس کی مسجد سے فوت نہ ہو تو اس لئے آگ اور عذاب سے برأت لکھی جاتی ہے اور وہ شخص نفاق سے بری ہے

مقمورہ و مقصورہ شریف

مقمورہ و مقصورہ شریف روضہ اقد س کو پیتل کی جالیوں سے اور دیگرا طراف کو لوہے کے جالی دار دروازوں سے بند رکھا گیا ہے۔

شریف شاطرف کی طرف ہر سہ مزارات متبرکہ کے مقابل قریباً چھ سات انچ قطر کے گول گول سے سوراخ ہی ایک دروازہ بھی ہے جو مثل تمام دروازوں کے ہر وقت بند رہتا ہے۔ اس جگہ کو معمورہ شریف کہتے ہیں۔

روضہ اقدس ﷺ پر حاضری

روضہ اقدس ﷺ پر حاضری جب آپ مواجہہ شریف (یعنی روضہ رسول ﷺ) کے رو بروآ ئیں تو جالی مبارک پر پیتل کا بڑا گول حلقہ جس کے اوپر اب نام کی تختی لگا دی گئی ہے. آپ ﷺ کے روئے انور کے سامنے ہے۔ اس کے سامنے ادب سے ہاتھ باندھ کر قبلہ کی طرف پشت کرتے ہوئے کھڑے ہو جائیں.

نظریں جھکا لیں ، ادھر اُدھر نہ دیکھیں۔ یہ ادب کے خلاف ہے. کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو اس پاکیزہ مقام کے ادب کے علاف ہو، جالی کے ساتھ لگ کر نہ کھڑے ہوں.

جالی کو بوسہ دینے اور چھونے کی کوشش بھی نہ کریں ۔ اونچی آواز میں کچھ نہ پڑھیں بلکہ دھیمی آواز میں پڑھیں ۔ شور و غل نه نہ کریں۔ مختصر یہ کہ وہاں جتنا عجز اور ادب ہوسکتا ہے. کیجئے اور سلام پیش کیجئے۔

الصَّاوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَى إِلِكَ وَأَصْحَابِكَ يَا حَبِيبَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ

ستر مرتبہ پڑھنا بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔

زیارت حضرت ابو بکر صدیق

زیارت حضرت ابو بکر صدیق دو قدم دائیں ہو جائیں. اس گول دائرے کے سامنے حضرت صدیق اکبر کی قبر ہے یہاں بھی سلام پیش کیجئے۔

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَنَا أَبَا بَكْرِنِ الصِّدِّيقِ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ

یہاں پر بھی اب نام کی تختی لگا دی گئی ہے۔

زیارت حضرت عمر فاروق

زیارت حضرت عمر فاروق مزار صدیق اکبر کے بعد دائیں طرف ایک قدم

ہٹ کر حضرت عمر فاروق کی قبر ہے۔ یہاں پر بھی سلام پیش کیجئے ۔

السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ

یہاں بھی اب نام کی تختی لگا دی گئی ہے۔

ریاض الجنتہ

ریاض الجنتہ مسجد نبوی میں جب آپ باب جبریل سے داخل ہوں گے. تو آپ کے بائیں ہاتھ پر ایک حجرہ نظر آئے گا یہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کا گھر تھا. جب آپ اسکے سامنے سے گزر جائیں.تو فوراً بعد بائیں ہاتھ پر مسجد نبوی جو حصہ ہے یہ ریاض الجنتہ کہلاتا ہے۔

اس مقام کےبارے میں حدیث میں ہے کہ جو جگہ میرے گھر اور منبر کے

درمیان ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہے. ( گھر سے مراد حضرت عائشہ کا حجرہ ہے جس میں آپ ﷺ کی قبر شریف ہے. اور جو حضرت بی بی فاطمہ کے حجرہ کے پیچھے ہے ). یہ جگہ در حقیقت جنت کا ایک ٹکڑا ہے جو اس دنیا میں منتقل کیا گیا ہے. اور قیامت کے دن یہ ٹکڑا جنت میں چلا جائے گا۔

اسی ریاض الجنتہ میں حضور نبی کریم کا مصلیٰ اور منبر مبارک بھی ہے. وہاں کھڑے ہو کر آپ کی امامت کروایا کرتے تھے۔ اس جگہ محراب بنی ہوئی ہے۔ الجنتہ کا جو حصہ ہے. اس حصے میں ہلکے سبز رنگ کے قالین بچھے ہوئے ہیں، ۔ جبکہ باقی ساری مسجد نبوی میں سرخ رنگ کے قالین بچھے ہوئے ہیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *